مہرخبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں جرمنی کے سابق سفیر پلیوگر نے اخبار " برلنر سائٹنگ " کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح ایران کو بھی پر امن ایٹمی پروگرام کے لئے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے اور ایران کی ایٹمی سیاست پر اقتصادی پابندیوں کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ اقوام متحدہ میں جرمنی کے سابق سفیر نے ایران کے خلاف گروپ 1+5 کی نئی قرارداد میں شدید پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شدید پابندیاں عائد کرنے میں گروپ1+5 میں اختلاف پایا جاتاہے اور اگر اتفاق بھی ہوجائے تو ان کی کامیابی ممکن نہیں ہے کیونکہ دیگر ممالک کی سیاست کو بدلنے میں سکیورٹی کونسل کی قراردادیں آج تک زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ جرمن کے اس سفارتکار کے مطابق سکیورٹی کونسل کا کام سخت شرائط میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے عام اور معمولی امور میں مداخلت سکیورٹی کونسل کے وظائف میں شامل نہیں ہے اس نے کہا کہ ایران کے ایٹمی معاملے کو حل کرنے کے سلسلے میں سکیورٹی کونسل ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے کیونکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایٹمی معاملے میں کوئی انحراف موجود نہیں ہے اور اس رپورٹ کے بعد سکیورٹی کونسل کی ایران کے خلاف تمام قراردادیں بے معنی ہو جاتی ہیں ۔
آپ کا تبصرہ